بھاری بستہ۔۔۔۔ معصوم بچوں کی صحت کو خدشہ

0

پاکستان کے ہر شہرمیں یہ منظر با خوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ معصوم بچے بھاری بھر کم بستہ کندھے پر ڈال کر بڑی مشکل سے اسکول جاتے ہیں۔ اوراس ضمن میں نا صر ف نجی بلکہ سرکاری ا سکولوں کا حال بھی ایک جیسا ہی ہے۔ جس میں بھاری کتابوں سے لدھا ہوابستہ معصوم طلبہ و طلبات علم کی جستجو میں  لے کر چل پڑتے ہیں لیکن اس سے ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات بھاری بستے  کے سبب عجلت میں بری طرح گر پڑتے ہیں اور انکو چوٹ لگ جاتی ہے ماہرین طب نے اس صورت حال کو تشویش نا ک نظر سے دیکھا ہے اور اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر اس کا سدباب نہیں کیاگیا تو بچوں کی صحت انتہائی  خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ بچوں کی کمر متاثر ہو رہی ہے جو شکایات خا ص طور پر دیکھی گئیں ہیں و ہ کمر میں درد پٹھوں میں شدید درد کمرمیں کچھاؤ یہاں تک کے ریڑ ھ کی ہڈ ی کے مہرے بھی کھسک جاتے ہیں جو شدید تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔

یہ دیکھا گیا ہے  بھاری اسکول بستو ں کی وجہ سےبچے 14 سال کی عمرکو  پہنچتے ہو ئے کمر کی مختلف تکالیف کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔ جس میں سب زیادہ تکلیف دہ مرض کمر کی ہڈی میں خم آجانا ہے۔ اسکے علاوہ نہ صرف  پٹھے بلکہ ان کے اعصاب بھی بری طرح متاثر ہو تے ہیں یہ بچے کمر درد بلکہ گردن میں شدید درد کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر اس مسئلے کے حل کے لیے ادویات وہ چھوٹی عمر سے ہی لینے لگ جائیں گے تو انکی صحت متا ثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہ دیکھا گیا ہے کہ 13-5سال کی عمر  کے 35 فیصد بچے مندرجہ بالا شکا یت کرتے نظر آتے ہیں یقینا یہ تکلیف دہ امر ان کی تعلیمی صلا حیتیں متا ثر کرتا ہے۔اوروہ اپنا تمام تر دن تھک کر گزارتے ہیں۔یہ بات واضح رہے کہ مختلف مضا مین سے بھرا ہوا  یہ بھاری بستہ بچوں کی علمی صلاحیت میں اضا فہ نہیں کر تا بلکہ ان کی صحت کو خطر ے میں ڈال دیتا ہے۔ کمر  متا ثر ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے ہاتھوں  کی کلائی کے پٹھے  اور ٹیشوز  بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یعنی پہلے پٹھوں میں تنا ؤ ہوتا ہے پھر ان میں سوزش ہو جاتی ہے۔ جو کمسن بچوں کے لیے تکلیف دہ عمل ہے اس شکا یت کونر سری جماعت سے لے کر پنجم جماعت تک کے  طالب علم اکثر کرتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔  افسو س یہ ہے کہ اسکو ل تو غا فل ہےہی  ، والدین بھی  آنکھیں  موندھے اور کچھ حد تک بے بس نظر آتے ہیں۔ ذرا سوچیئے یہ ہما را تعلیمی نظام ہے کہ ایک بچے پر 14سے زیا دہ مضا مین کا بو جھ (کا پیاں اور کتابیں) اور اس میں بھی ایک مضمون کی ایک عددسے زیا دہ کاپیاں یقین ان کی ذہنی صلا حیت کو تو نہیں بڑھا ئیں گی بلکہ ان کو تھکا دینے کے لیے کافی ہیں۔اور جب یہ  بچے بھاری بستے کے ساتھ اپنے گھر پہنچتے ہیں  تو اپنے والدین کوشدید تھکا وٹ کی  شکا یت کرتے ہیں  اور وہ بقیہ  دن میں چست اور توانا نہیں رہتے۔

 ٹیکنا لو جی کی اس دنیامیں ترقی یافتہ ممالک نے اس مسئلے کے حل کے لیئے ڈیجیٹل  کتابوں  کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ جس میں بچے کمپیوٹر کی مدد سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اور یہ بھار ی بھر کم کتا بوں سے ان کی جا ن چھوٹ چکی ہے یہا ں تک بھی انہوں نے اتنی  ترقی کر لی ہے کہ ان کا ہوم ورک   بھی ای میل کے ذریعے والدین کو مو صول ہو جاتاہے ا ن کے بچے گھرپر کام کرتے ہیں۔ اور اسکول میں چست اور  توانا رہتے ہیں جس  کاان کی صحت پر مثبت اثر پڑ تا ہے ۔ بیرون ممالک واقع اسکولوں کا ایک یہ بھی خا صہ ہے  کہ ایک مضمون کی بے تحاشہ کتابوں کے بجا ئے اہم ترین  ٹیکسٹ بکس  پر توجہ دی جاتی ہے۔

اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کرے گا کہ چست اور توانا جسم بچوں کی ذہنی صلا حیتوں کے بڑ ھانے اور تعلیم حاصل کر نے لیےبے حد  ضروری ہے۔ بین الاقوامی اسکولوں میں لاکرز کی سہولت بھی میسر ہے جس میں طلباء اپنے ٹائم ٹیبل کے مطابق کتابوں کو رکھتے ہیں اورروزانہ بھاری بستہ لے کر آنے سے ان کی جان چھوٹ جاتی  ہے۔پاکستانی طبی ماہرین نے بھی متعدد بار تعلیمی انتظامی اداروں کو اس مسئلہ کی طرف توجہ دلانے کی کو شش کی ہے۔  امید ہے کہ طبی ماہرین کی تجویذ پر عمل کیاجا ے تو اس مسئلہ پر کافی حد تک قابوپا لیا جائے گا۔

Comments

comments